ممبئی ۶؍ نومبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہے مراٹھواہ کے پانچ مسلم نوجوانوں نے مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ ہوکر جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس تعلق سے ممبئی کی سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں تحریری عرضداشت بھی داخل کی ہے جس پر عدالت نے ۱۳؍ نومبر کو سماعت کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی ہے۔
واضح رہے کہ سال ۲۰۱۰ء میں مہاراشٹر انسداد ہشت گرد دستہ (ATS ) نے پانچ مسلم نوجوانوں محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو گرفتار کرکے آرمس قانون کی دفعات ۳،۲۵ اور یواے پی اے قانون کی دفعات ۱۰،۱۳،۱۵، اور ۱۶ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ملزمین کا لشکر طیبہ اور ہوجی جیسی تنظیموں سے تعلق ہے اور ان کے نشانے پر ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے ۔
شروعات میں معاملے کی تفتیش اے ٹی ایس نے کی اور پھر بعد میں قومی تفتیشی ایجنسی NIAکو معاملہ کی تحقیقات سونپی گئی جس نے ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کیا اور اس کے بعد اورنگ آباد سے مقدمہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت منتقل ہوگیا اور ملزمین پر فرد جرم عائد کیئے جانے کے بعد باقاعدہ سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج ہونے لگا ۔ ابتک ۱۷؍ گواہوں نے اپنے بیانات کا اندارج کراچکے تھے لیکن مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ مسلم نوجوانو ں نے جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور آج اس تعلق سے عدالت کو مطلع بھی کیا گیا ۔
ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ملزمین کے اس فیصلہ کو ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے انہیں دی جانے والی قانونی امداد کو فوراً ختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے ان کے وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ کو مقدمہ سے دستبردار ہوجانے کی ہدایت دی جس کے کے بعد دونوں نے عدالت سے اپنا وکالت نامہ نکال لیا ہے۔
ملزمین کے ذریعہ جرم قبول کیئے جانے کے تعلق سے سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے اخبار ات کے نام جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ملزمین اور ان کے اہل خانہ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ملزمین کا یہ فیصلہ انہیں مستقبل میں بہت نقصان پہنچاسکتا ہے نیز اب جبکہ سرکاری گواہان عدالت میں اپنے بیانات کا اندارج کرانے لگے ہیں آئندہ ایک سال میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے کی امید ہے لیکن ملزمین اس بات پر بضد رہے کہ انہیں ایسا لگتا ہیکہ ان کا مقدمہ ماضی قریب میں ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ وقتاً فوقتاً ججوں کی ہونے والی تبدیلی سے وہ مایوس ہوچکے ہیں ۔
گلزار اعظمی نے کہاکہ آج صبح دفتر جمعیۃ علماء میں ملزمین کے اہل خانہ اور وکلاء کی ایک میٹنگ کا انعقاد بھی کیا گیا تھااور ملزمین کے اہل خانہ کو ملزمین کو سمجھانے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن ملزمین نے سیشن عدالت میں ان کے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات کے بعد بھی اپنے فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے فیصلے کی وہ کسی بھی طرح سے حمایت نہیں کر رہے ہیں لہذا انہوں نے وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے قانونی امدا د فوراً ختم کیئے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔